बेहयाई का जुर्म 💃👈

🍃🍂बिस्मिल्लाहिर्रहमानिर्रहीम🍂🍃

🏵️ नबी सल्ल० ने फ़रमाया: “हया ईमान का एक जुज़ है और ईमान वाले जन्नत मे जाऐंगे और बेहयाई का ता’अल्लुक ज़ुल्म से है और ज़ालीम जहन्नुम में जाऐंगे।”

📚 JAMIAT TIRMIDHI: Jild 4, Kitab Al bir wa’ssllah 27, Hadith No.2009, Grade: Sahi

👉हराम वा हलाल कि पहचान अहदीश् की रोशनी में

Sahih Bukhari Hadees # 52

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، أَلَا إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ .

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی کھلا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے ( کہ حلال ہیں یا حرام ) پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو ( شاہی محفوظ ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے۔ وہ قریب ہے کہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے ( اور شاہی مجرم قرار پائے ) سن لو ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ ( پس ان سے بچو اور ) سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔
Sahih Hadees

कब्र मे क्या होगा

🍂🍃ﺑِﺴْـــــــــــــﻢِﷲِالرَّحْمٰنِﺍلرَّﺣِﻴﻢ🍂🍃

🌺नबी करीम ﷺ ने फ़रमाया: मुर्दे ( के साथ ) तीन चीज़ें ( क़ब्रिस्तान तक ) जाती हैं: उसके घर वाले, उसका माल, और उसका अमल, ( फिर ) दो चीज़ें यानी उसके घर वाले और उसका माल लौट आते हैं, और एक बाक़ी रह जाता है और वो उसका अमल है।

https://g.page/Eshopping-store?av📚 Sunan nasa’i: jild 4, kitab ul-janazah 21, hadith no. 1939
Grade sahih

📘फरमाने रसूल स….

*چھٹی قسط(٦)* https://g.page/Eshopping-store?av
🍀بسم الله الرحمن الرحيم🍀 ☘️السلام علیکم ورحمة الله وبركاته *📌قارئین کرام! “بلغوا عني ولو آية”* کے سلسلہ وار دروس بعنوان : *🪐قیامت کی علامتوں🪐* میں آپ سب کا استقبال ہے، قیامت کی چھوٹی علامتوں میں سے ایک علامت *🌴(3) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا🌴* 📚 فرمان باری تعالیٰ ہے : *{ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ}* “قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا” *(سورة القمر : ١)*.📌 *انس بن مالک رضی اللہ عنہ* فرماتے ہیں کہ :” مکہ والوں نے رسولﷺ سے کہا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو آپ ﷺ نے شق قمر کا معجزہ یعنی چاند کا پھٹ جانا ان کو دکھایا” *(صحیح بخاری :٣٦٣٧)*.📌 *عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما* فرماتے ہیں کہ رسولﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس کے پیچھے چلا گیا تھا، نبی کریم ﷺ نے اسی موقع پر ہم سے فرمایا تھا کہ گواہ رہنا *(صحیح بخاری :٤٨٦٤،٣٦٣٦).*  *📌قارئین کرام!* ابھی میں نے آپ کے سامنے ایک آیت اور دو حدیثیں پیش کی ہیں جس میں قربِ قیامت کی طرف اشارہ اور نبی کریم ﷺ کے ایک معجزہ اور قیامت کی ایک علامت یعنی چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا تذکرہ ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دنیا بہت جلد فنا ہونے والی ہے .📌حافظ *ابن کثیر رحمہ اللہ* آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں کہ :”انشقاق قمر (چاند کے دو ٹکڑے ہونے) کا واقعہ رسول اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں پیش آیا تھا جیساکہ صحیح سند سے ثابت متواتر روایات میں اس کا ذکر موجود ہے علماء امت کا اس بات پر اتفاق یے کہ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے عہد ہی میں پیش آیا اور یہ آپﷺ کے حیرت انگیز معجزات میں سے ایک معجزہ ہے ” *[تفسير ابن كثير سورة القمر ]*.  *📌قارئین کرام!* اہل مکہ کے مطالبہ پر معجزہ تو ظاہر ہوگیا مگر وہ لوگ بجائے اِس کے اُس پر ایمان لے آتے انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے *جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ* فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا……. ان لوگوں (اہل مکہ نے کہا: محمد (ﷺ) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے ( اس کی تردید کی ) کہا: اگر انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ہے تو ( باہر کے ) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لا سکتے (کیونکہ باہر والوں نے آکر چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی خبر دی تھی)” *(سنن ترمذی :٣٢٨٩)* اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : *{وَإِن یَرَوۡا۟ ءَایَةࣰ یُعۡرِضُوا۟ وَیَقُولُوا۟ سِحۡرࣱ مُّسۡتَمِرࣱّ ،وَكَذَّبُوا۟ وَٱتَّبَعُوۤا۟ أَهۡوَاۤءَهُمۡۚ وَكُلُّ أَمۡرࣲ مُّسۡتَقِرࣱّ}* ” یہ (مکہ والے) اگر کوئی معجزه دیکھتے ہیں تو منھ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے” *(سورة القمر : ٢-٣)*. *📌عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ* فرماتے ہیں کہ:” *خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ ، وَالْقَمَرُ ، وَالرُّومُ ، وَالْبَطْشَةُ ، وَاللِّزَامُ ، فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا. “* ( قیامت کی ) پانچ نشانیاں گزر چکی ہیں۔ دھواں ( اس کا ذکر آیت «يوم تأتي السماء بدخان مبين» میں ہے )، چاند کا پھٹنا ( اس کا ذکر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» میں ہے )، روم کا مغلوب ہونا ( اس کا ذکر سورۃ «غلبت الروم» میں ہے )، «البطشة» یعنی اللہ کی پکڑ جو بدر میں ہوئی ( اس کا ذکر «یوم نبطش البطشة الکبرى» میں ہے ) اور وبال جو قریش پر بدر کے دن آیا ( اس کا ذکر آیت «فسوف یکون لزاما» میں ہے *(صحيح بخاری :٤٧٦٧).*  📌 *حذیفہ رضی اللہ عنہ* نے ایک مرتبہ خطبہ دیا اور فرمایا : *إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ يقولُ (اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وانْشَقَّ الْقَمَرُ ) ألا وإنَّ الساعةَ قد اقْتَرَبَتِ ، ألا وإنَّ القمرَ قد انْشَقَّ ، ألا وإنَّ الدُّنيا قد آذَنَتْ بِفِراقٍ ، ألا وإنَّ اليومَ المِضْمارُ ، وغدًا السِّباقُ…. إنَّمَا يَعْنِي العملَ اليومَ والجزاءُ غدًا،* اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت قریب آگئ اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا، خبردار! قیامت قریب آچکی ہے، چاند پھٹ چکا ہے، دنیا نے اپنی جدائی کا اعلان کردیا ہے، آج عمل کا دن ہے کل روزِ جزاء ہے” *[موافقة الخبر الخبر لإبن حجر( ١/٢٠٦) قال: حسن ، البداية والنهاية (٣/١١٧) قال :إسناده قوي وله طرق، صحيح الترغيب( ح/٣٣٥٢) قال : حسن مقطوع].*  *نوٹ :* مزید علامتوں کا ذکر اگلے دروس میں آئیگا إن شاء الله تعالى. 🤲اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قیامت کی   علامتوں سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اس کے لئے تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین).
استفادہ أز *[ الموسوعة في الفتن والملاحم و أشراط الساعة للدكتور أحمد محمد المبيض ]*                  ❇️ *جاری*❇️🔹▬▬▬▬▬▬🔹🌹📚 *اردو نصیحتیں*📖🔹▬▬▬▬▬▬🔹🌹*📜☜ گروپ میں شامل ہونے کے لیے Name لکھ کر اِن نمبر پر WhatsApp کریں*    📱+91 72753 39034    📱+91 9579467085https://g.page/Eshopping-store?av

एक नसीहत हदीस रसूल स….

أَعـــــــــــــــــــــــوذ بالله من الشيطان الرجيم●
بســــــــــــــــــــــــــــــــــــم الله الرحمن الرحيم●

~🍃🎋🍃🎋…♡…🎋🍃🎋🍃🎋~

🌹 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “”كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ‏‏‏‏‏‏ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، ‏‏‏‏‏‏حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ””.

🌹नबी करीम (ﷺ) ने फ़रमाया: दो कलमे जो ज़ुबान पर हलके हैं लेकिन तराज़ू पर (आखिरत में) भारी हैं, अल्लाह रहमान के यहाँ पसन्दीदा हैं वह यह हैं “सुब्हान अल्लाह वबि हम्दीही सुब्हान अल्लाहिल अज़ीम”

🌹Nabi kareem (ﷺ) ne farmaya: do kalme jo zuban par halke hain lekin tarazu par (Akhirat mein) bhaari hain aur Allah Rehman ke yahan pasandeedah hain wo ye hain “Subhan Allah wa bi-hamdihi; Subhan Allahi-l-‘Azim”

🌹 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازو پر ( آخرت میں ) بھاری ہیں اور اللہ رحمن کے یہاں پسندیدہ ہیں وہ یہ ہیں «سبحان الله وبحمده،‏‏‏‏ سبحان الله العظيم‏ .»

🌹Prophet Mohammed (ﷺ) said: two words sentences or utterances that are very easy for the tongue to say, and very heavy in the balance (of reward on the day of judgement) and the must beloved to the Gracious Almighty (And they are): Subhan Allah wa bi-hamdihi; Subhan Allahi-l-‘Azim,

📚 Bukhari Sharif: jild-8, kitab-ul-imaan wa Al-nudhur 83, hadith no. 6682

इस्लामी ईमान की जड़ तोहिद



*#توحید*


*توحید کے لغوی اور اصطلاحی معنی*




👈🏻 *لغوی معنیٰ:-* توحید عربی میں *وَحَدَ* سے ماخوذ (یعنی نکلا) ہے جو ایک ہونے کے معنی میں ہے یعنی ایک ماننا اور یکتا جاننا 


اور 👈🏻 *اصطلاحی لحاظ سے* توحید اسلام کی اصل بنیاد ہے اسلامی تعلیمات میں *”اللہ کی وحدانیت”* میں عقیدہ رکھنے کے معنی میں ہے (یعنی ایک اللہ کے ہونے پر عقیدہ رکھنے کے معنی میں ہے) 








*قُلۡ ہُوَ  اللّٰہُ  اَحَدٌ  ۚ﴿۱﴾  اَللّٰہُ  الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾لَمۡ  یَلِدۡ   ۬ ۙ  وَ  لَمۡ  یُوۡلَدۡ    ۙ﴿۳ ﴾   وَ لَمۡ  یَکُنۡ  لَّہٗ   کُفُوًا  اَحَدٌ ٪﴿۴﴾*


*ترجمہ:-* آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالٰی ایک  ( ہی ) ہے ۔ اللہ تعالٰی بے نیاز ہے ۔  نہ اس سے کوئی پیدا ہوا  نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ۔اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ۔ 




*توحید کی اہمیت و فضیلت*






⭐ توحید ایک عظیم نعمت ہے عقیدہ توحید اپنے عظیم مقام و مرتبے اور انتہائی اہمیت کیوجہ سے تمام اعمال پر مقدم اور تمام ضروری امور پر سبقت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی دعوت سب سے پہلے دی جاتی ہے اور یہ اسلام کی سب سے اہم اور اصل بنیاد ہے کوئی انسان اسلام میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ عقیدہ توحید اور کملہ توحید *”لا الہ الا اللہ”* کا اقرار نہ کرلے یعنی اللہ کی عبادت کا اقرار اور اس کے سوا ہر شے کی عبادت کی نفی کردےـ 
👈🏻رسول اکرمﷺکا فرمان ہے:
*بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ،وَإِقَامِ الصَّلَاةِ،وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ،وَالْحَجِّ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ*
(صحیح بخاری)
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے:
اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں اور محمدﷺاللہ کے رسول ہیں۔ اورنماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اورحج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا‘‘


⭐توحید کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں اور یہی وہ اسلام کا سرمایایہ جس میں رب کی رضامندی ہے ، جنت میں جانے اور جہنم سے نجات کا واحد ذریعہ ہے اور جو شخص شرک میں مبتلا ہو اور اسی پر مر جائے اس کے لیے جہنم کا عذاب یقینی ہے جیسا کہ سورہ نساء آیت نمبر 116 میں مشرکوں کے بارے میں اللہ فرماتا ہے 


*اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ  ضَلَّ  ضَلٰلًۢا  بَعِیۡدًا*
*ترجمہ:-* اسے اللہ تعالٰی قطعًا نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جائے  ،  ہاں شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔ 


⭐طوالت سے بچتے ہوئے توحید کی فضیلت میں آئی ہوئی صرف دو حدیث پر اکتفا کرتا ہوں


1️⃣شفاعت کے بارے میں جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا سنو!جس شخص نے خلوص دل سے *”لا الہ الا اللہ”* کہا وہی سب سے بڑھ کر میری شفاعت کا مستحق ہوگا (بخاری)  
2️⃣ایک دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا” (مسلم)


 


*توحید کی قِسموں کا بیان*




📌 اہل علم حضرات نے توحید کو سمجھنے کے لیے اس کی تین قِسمیں بیان کی ہیں اور یہ تینوں قِسم قرآن کریم اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے لی گئی ہیں اور وہ یہ ہیں:


 *①توحید ربوبیت*
*②توحید الوہیت*
*③توحید اسماء و صفات*


*توحید ربوبیت:-* یہ کہ اس کائنات کا خالق (پیدا کرنے والا)اور مالک صرف ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے اس میں اس کا کوئی شریک اور معاون نہیں  اور وہی ہم سب کو روزی دیتا ہے وہی زندگی اور موت ، نفع و نقصان کا  مالک ہے اس کے علاوہ کوئی بھی ذات ہمیں نفع و نقصان نہیں پہونچا سکتی 


*اللہ تعالی کا فرمان ہے:* 


*اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾*
*ترجمہ:* سب تعریف اللہ تعالٰی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔
*ایک دوسرے  مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا*
بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے  پھر عرش پر قائم ہوا  وہ رات سے دن  کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے  اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں ۔  یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے  اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے *(سورة اعراف:54)*


اس کے علاہ بہت ساری آیتیں ہیں جو اللہ کی ربوبیت کا پتہ دیتی ہیں لیکن ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ صرف توحید کی اس قسم کا اقرار کرلینے سے ہم مسلمان نہیں ہوسکتے کیونکہ توحید کی اس قسم کا اقرار کفار بھی کرتے تھے اسی کو رازق اور خالق مانتے تھے جیسا کہ *سورة یونس:31* میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ــ
آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وہ یہی کہیں گے کہ ’’ اللہ ‘‘  تو ان سے کہیئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے ۔


📌لیکن اس کے باجود بعض مسلم حضرات بھی اللہ کو چھوڑ کر قبروں اور مزاروں پر اپنی ضرورتیں پوری کرانے جاتے ہیں جبکہ نفع و نقصان کا مالک صرف ایک اللہ ہے لہذا اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ مشرک ہے (اور مشرک کا انجام دائمی جہنم کا عذاب ہے جیسا کہ قسط نمبر دو میں بتایا جا چکا ہے)
   




*توحیدِ الوہیت:* یہ ہے کہ عبادت کی ساری قسمیں اللہ کے لیے خاص کی جائیں یا یہ کہ ہماری ہر قسم کی عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جیسے نماز،دعا،ذبح،نذر،حج وعمرہ،صدقہ وخیرات وغیرہ ساری عبادتیں خالص اللہ کے لیے کی جائیں ــ


📌توحید کی یہی وہ قسم ہے جس کو مشرکین نے تسلیم(accept)نہیں کیا وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی *ربوبیت* (یعنی کائنات کے بنانے اور اِس پورے نظام کو چلانے میں صرف ایک اللہ ہے) کا اقرار تو کرتے تھے مگر *الوہیت* (یعنی صرف ایک  اللہ کی خاص عبادت) میں دوسروں کو شریک کرلیا کرتے تھے اسی لیے جب *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم* نے ان سے کہا کہ *”لا الہ الا اللہ* کہو، کامیاب ہوجاؤگے  ، تو انہوں نے حیرت سے کہا: 
*ترجمہ:* کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے ۔  ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو  یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے ۔  ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی  کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے ۔  کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی  نازل کیا گیا ہے؟  دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں  بلکہ  ( صحیح یہ ہے کہ )  انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں ۔ یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں ۔ *(سورة ص: 5 سے 9)*
📌 انہوں نے اللہ کی ربوبیت کے اقرار کے باوجود اس کی الوہیت کا انکار کیا ، بلکہ وہ اللہ کی عبادت بھی کرتے تھے لیکن اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے تھے، انہیں سفارشی سمجھتے،  ان کا وسیلہ پکڑتے، اور یہ عقیدہ رکھتے کہ ان کے ان اعمال سے ان کے یہ (جھوٹے) معبود انہیں اللہ سے قریب کردیں گے، اسی لیے انہوں نے اپنے معبودوں کو چھوڑنے سے انکار کردیا تھا ٹھیک یہی حال آج کے قبر پرستوں کا ہے جو اللہ کو پکارتے ہیں نماز پڑھتے روزہ رکھتے اور حج کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اپنے اولیاء اور بزرگوں کو خوش رکھنے کے لیے ان کے نام کی نیاز کرتے ہیں ان کی گیارہوں مناتے ہیں اور ان کے نام پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور مشرکین مکہ کی طرح یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کاموں سے یہ بزرگ انہیں اللہ سے قریب کردیں گے ــ


 📌ایسے لوگ سخت گمراہی کے راستے پر ہیں ان کا یہ عقیدہ باطل اور مشرکانہ عقیدہ ہے یہی لوگ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہنے والے ہیں چاہے وہ عربی ہوں یا عجمی (غیر عربی)
 اس لیے اللہ تعالیٰ نے صاف فرمادیا کہ سارے نبیوں اور رسولوں کی بعثت کا مقصد توحید الوہیت کا قیام اور لوگوں کو سارے معبودوں سے ہٹا کر صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا راستہ بتانا ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے:
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ  ( لوگو )  صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو ۔ *(سورة النحل:36)*






*توحیدِ اسماء و صفات:* اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بندہ یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسماء و صفات (ناموں اور خوبیوں) میں یکتا ہے اور ان میں اس کا کوئی ہم مثل نہیں (یعنی کوئی اس کے جیسا نہیں) ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث اللہ تعالیٰ کے جن جن ناموں اور صفتوں کو بیان کیاہے اس پر  بغیر کسی قسم کی تحریف  یا تعطیل و تمثیل و تکییف اور تشبہ کے ایمان رکھا جائے ــ


*وضاحت:*
 *لفظِ تحریف:* یعنی اللہ تعالی کے جو نام اور صفات ہیں اس میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کرنا، لفظ میں یا معنی میں ، یا لفظ اور معنی دونوں میں۔  
اللہ تعالیٰ کے ناموں اور صفتوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہیں کی جائے گی بلکہ جو اللہ نے اپنے بارے میں یا رسول اللہ نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دیا ہے اسکی ذات وصفات کے متعلق ہم اس پر بعینہٖ  ایمان رکھیں ۔ 
*لفظِ تعطیل:* یعنی قرآن وحدیث میں وارد اللہ تعالیٰ کے  اسماء و صفات کا انکار کرنا ۔
تمام اسماء وصفات کا انکار کرے  یا چند اسماء و صفات کا انکار کرے سب تعطیل میں داخل ہے۔
 جیسے اللہ کے لیے صفت کلام ہے  (کلام کے معنی بات کرنا موسی علیہ السلام کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے بات کیا ہے) اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ بات نہیں کرتا تو یہ صفت کلام کی تعطیل ہوئی جو توحید اسماء وصفات کے خلاف ہے۔
*لفظِ تمثیل* اس کا معنی  مثال بیان کرنا یعنی  اللہ کی جو صفات (خوبیاں)  یا جو اس کے اسماء (نام) ہیں وہ کسی کے مثل نہیں (یعنی کسی کے جیسے نہیں) جیسے یہ کہنا کہ اللہ کی فلاں صفت فلاں کی طرح ہے ــ ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ اس کے مثل کوئی ذات نہیں ــ
*لفظِ تکییف:* اس کا مطلب ہے کہ کسی چیز یا کسی صفت کی کیفیت بیان کرنے کو کہا جاتا ہے یہاں مراد اللہ کے نام یا اس کی صفت کی کیفیت بیان کرنا جیسے کوئی کہے کہ اللہ کے ہاتھ کی یہ کیفیت ہے یا اسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کے آنے کا یہ طریقہ ہے حالانکہ کہ اللہ تعالیٰ کی کیفیت بیان کرنا غلط ہے اللہ تعالی تکییف کی ان تمام چیزوں سے بلند و بالا ہے کیونکہ قرآن یا حدیث میں کیفیت نہیں بیان کی گئی ہے 
*لفظِ تشبیہ:* کسی چیز سے تشبیہ دینا یعنی اللہ تعالی کی صفات کو تشبیہ دینا جیسے کہنا کہ اللہ کی فلاں صفت فلاں کی طرح ہے جبکہ یہ سب کہنا درست نہیں ہمارا ایمان بغیر کسی تحریف تعطیل تمثیل تکییف تشبیہ کے ہے اللہ کی ذات با کمال واکمل ہے ہم اس کے اسماء و صفات (ناموں اور خوبیوں) پر ایمان رکھتے ہیں وہ کیسا ہے اس کے ہاتھ کیسے ہیں وہ بات کیسے کرتا ہے یہ علم صرف اللہ کو ہے لیکن ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ان تمام صفات میں واحد اور اکیلا ہے اور اس کے جیسا کوئی نہیں ہے۔
 *جیسا کہ اس کا فرمان ہے:*
*لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ  شَیۡءٌ ۚ وَ هوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ* (الشوریٰ:۱۱)
*ترجمہ:* اس جیسی کوئی چیز نہیں  وہ سننے   اور دیکھنے والا ہے ۔


*اور سورة النحل میں فرمایا*
*(فَلَا تَضۡرِبُوا۟ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ یَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ)*
*ترجمہ:* پس اللہ تعالٰی کے لئے مثالیں مت بناؤ  اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ (آیت نمبر :74)


*اور فرمایا:*
*(وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَاۤءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِینَ یُلۡحِدُونَ فِیۤ أَسۡمَـٰۤىِٕهِۦۚ سَیُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوا۟ یَعۡمَلُونَ)*


*ترجمہ:* اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں تو اُسے اُس کے ناموں سے پکارا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی(اختیار) کرتے ہیں  ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی ۔  (سورة اعراف:180)


*==========================*


*خلاصہ کلام…….* 
*ان ساری باتوں کا خلاصہ کلام……* 👇🏻 


*توحيد كا معنى ومفہوم:*
ایک اللہ کو ماننا اورصرف اور صرف اسی کی عبادت کرنا اور نفع ونقصان کا مالک اسی ماننا اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا توحید ہے۔ 




*توحید کی فضیلت اور اسکا مقام*
توحید اسلام کا پہلا اور سب سے اہم رکن ہے اسی پر بقیہ ارکان اسلام کی صحت اور قبولیت کا دارومدار ہے۔ اسکے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی بلکہ ساری کوششیں رائیگاں اور بیکار ہیں۔ اسکی اسی اہمیت کے پیش نظر تمام انبیاء نے اپنی دعوت کا آغاز اسی توحید سے کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ابتدائے نبوت سے لیکر اپنی آخری سانس تک اسی توحید کی دعوت دیتے رہے۔




*اقسام توحید*
 توحید کی قِسموں کے بارے میں بتایا گیا کہ توحید کی تین قسمیں ہیں (توحید ربوبیت ، توحید الوہیت اور توحید اسماء و صفات)


*پہلی قسم*
*توحید ربوبیت* یہ ہے کہ اللہ رب العالمیں ہی پوری کائنات کا مالک، تمام مخلوقات کا خالق و رازق ہے، اسی کے ہاتھ میں موت و حیات ہےاور وہی نفع و نقصان کا بھی مالک ہے مطلب یہ کہ اِس پورے نظام کو چلانے والا ایک ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے ۔


*دوسری قسم*
*توحید الوہیت یا توحید عبادت:*
یعنی کہ ہر طرح کی عبادت کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے اسکے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ لہذا ہر قسم کی عبادت صرف اور صرف اسی کیلئے ہے اسمیں کسی اور کو شریک کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے جسکا عذاب ہمیشہ کیلئے جہنم میں جلنا ہے اور مشرک کبھی بھی جہنم سے نکالا نہیں جائے گا۔


*تیسری قسم*
*توحیدِ اسماء و صفات*
اور وہ یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے اپنے بارے میں جن ناموں اور صفتوں کا ذکر کیا ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے جن ناموں اور صفتوں کا ذکر کیا ہے اسکا اقرار کرنا اور اسکے معنی کو تسلیم کرنا اسمیں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنا بلکہ جس طرح اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے اسی طرح تسلیم کرنا اور اسمیں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک اور مشابہہ نہ ماننا اور اسکی کیفیات کے پیچھے نہ پڑنا، بلکہ یہ عقیدہ رکھے کہ اسکے جیسا کوئی نہیں اور وہ سب سے اعلیٰ مقام والا ، اور سب سے اچھی صفات والا ہے۔


✍️ *زاہد عزیز اثری* (9616409723)
┄┄┅┅✪❂✵🔵✵❂✪┅┅┄┄
📱📚 *اردو نصیحتیں* 👇
┄┄┅┅✪❂✵🔵✵❂✪┅┅┄┄


https://g.page/Eshopping-store?av

*#توحید*


*توحید کے لغوی اور اصطلاحی معنی*




👈🏻 *لغوی معنیٰ:-* توحید عربی میں *وَحَدَ* سے ماخوذ (یعنی نکلا) ہے جو ایک ہونے کے معنی میں ہے یعنی ایک ماننا اور یکتا جاننا 


اور 👈🏻 *اصطلاحی لحاظ سے* توحید اسلام کی اصل بنیاد ہے اسلامی تعلیمات میں *”اللہ کی وحدانیت”* میں عقیدہ رکھنے کے معنی میں ہے (یعنی ایک اللہ کے ہونے پر عقیدہ رکھنے کے معنی میں ہے) 








*قُلۡ ہُوَ  اللّٰہُ  اَحَدٌ  ۚ﴿۱﴾  اَللّٰہُ  الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾لَمۡ  یَلِدۡ   ۬ ۙ  وَ  لَمۡ  یُوۡلَدۡ    ۙ﴿۳ ﴾   وَ لَمۡ  یَکُنۡ  لَّہٗ   کُفُوًا  اَحَدٌ ٪﴿۴﴾*


*ترجمہ:-* آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالٰی ایک  ( ہی ) ہے ۔ اللہ تعالٰی بے نیاز ہے ۔  نہ اس سے کوئی پیدا ہوا  نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ۔اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ۔ 




*توحید کی اہمیت و فضیلت*






⭐ توحید ایک عظیم نعمت ہے عقیدہ توحید اپنے عظیم مقام و مرتبے اور انتہائی اہمیت کیوجہ سے تمام اعمال پر مقدم اور تمام ضروری امور پر سبقت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی دعوت سب سے پہلے دی جاتی ہے اور یہ اسلام کی سب سے اہم اور اصل بنیاد ہے کوئی انسان اسلام میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ عقیدہ توحید اور کملہ توحید *”لا الہ الا اللہ”* کا اقرار نہ کرلے یعنی اللہ کی عبادت کا اقرار اور اس کے سوا ہر شے کی عبادت کی نفی کردےـ 
👈🏻رسول اکرمﷺکا فرمان ہے:
*بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ،وَإِقَامِ الصَّلَاةِ،وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ،وَالْحَجِّ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ*
(صحیح بخاری)
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے:
اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں اور محمدﷺاللہ کے رسول ہیں۔ اورنماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اورحج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا‘‘


⭐توحید کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں اور یہی وہ اسلام کا سرمایایہ جس میں رب کی رضامندی ہے ، جنت میں جانے اور جہنم سے نجات کا واحد ذریعہ ہے اور جو شخص شرک میں مبتلا ہو اور اسی پر مر جائے اس کے لیے جہنم کا عذاب یقینی ہے جیسا کہ سورہ نساء آیت نمبر 116 میں مشرکوں کے بارے میں اللہ فرماتا ہے 


*اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ  ضَلَّ  ضَلٰلًۢا  بَعِیۡدًا*
*ترجمہ:-* اسے اللہ تعالٰی قطعًا نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جائے  ،  ہاں شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔ 


⭐طوالت سے بچتے ہوئے توحید کی فضیلت میں آئی ہوئی صرف دو حدیث پر اکتفا کرتا ہوں


1️⃣شفاعت کے بارے میں جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا سنو!جس شخص نے خلوص دل سے *”لا الہ الا اللہ”* کہا وہی سب سے بڑھ کر میری شفاعت کا مستحق ہوگا (بخاری)  
2️⃣ایک دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا” (مسلم)


 


*توحید کی قِسموں کا بیان*




📌 اہل علم حضرات نے توحید کو سمجھنے کے لیے اس کی تین قِسمیں بیان کی ہیں اور یہ تینوں قِسم قرآن کریم اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے لی گئی ہیں اور وہ یہ ہیں:


 *①توحید ربوبیت*
*②توحید الوہیت*
*③توحید اسماء و صفات*


*توحید ربوبیت:-* یہ کہ اس کائنات کا خالق (پیدا کرنے والا)اور مالک صرف ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے اس میں اس کا کوئی شریک اور معاون نہیں  اور وہی ہم سب کو روزی دیتا ہے وہی زندگی اور موت ، نفع و نقصان کا  مالک ہے اس کے علاوہ کوئی بھی ذات ہمیں نفع و نقصان نہیں پہونچا سکتی 


*اللہ تعالی کا فرمان ہے:* 


*اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾*
*ترجمہ:* سب تعریف اللہ تعالٰی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔
*ایک دوسرے  مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا*
بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے  پھر عرش پر قائم ہوا  وہ رات سے دن  کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے  اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں ۔  یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے  اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے *(سورة اعراف:54)*


اس کے علاہ بہت ساری آیتیں ہیں جو اللہ کی ربوبیت کا پتہ دیتی ہیں لیکن ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ صرف توحید کی اس قسم کا اقرار کرلینے سے ہم مسلمان نہیں ہوسکتے کیونکہ توحید کی اس قسم کا اقرار کفار بھی کرتے تھے اسی کو رازق اور خالق مانتے تھے جیسا کہ *سورة یونس:31* میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ــ
آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وہ یہی کہیں گے کہ ’’ اللہ ‘‘  تو ان سے کہیئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے ۔


📌لیکن اس کے باجود بعض مسلم حضرات بھی اللہ کو چھوڑ کر قبروں اور مزاروں پر اپنی ضرورتیں پوری کرانے جاتے ہیں جبکہ نفع و نقصان کا مالک صرف ایک اللہ ہے لہذا اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ مشرک ہے (اور مشرک کا انجام دائمی جہنم کا عذاب ہے جیسا کہ قسط نمبر دو میں بتایا جا چکا ہے)
   




*توحیدِ الوہیت:* یہ ہے کہ عبادت کی ساری قسمیں اللہ کے لیے خاص کی جائیں یا یہ کہ ہماری ہر قسم کی عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جیسے نماز،دعا،ذبح،نذر،حج وعمرہ،صدقہ وخیرات وغیرہ ساری عبادتیں خالص اللہ کے لیے کی جائیں ــ


📌توحید کی یہی وہ قسم ہے جس کو مشرکین نے تسلیم(accept)نہیں کیا وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی *ربوبیت* (یعنی کائنات کے بنانے اور اِس پورے نظام کو چلانے میں صرف ایک اللہ ہے) کا اقرار تو کرتے تھے مگر *الوہیت* (یعنی صرف ایک  اللہ کی خاص عبادت) میں دوسروں کو شریک کرلیا کرتے تھے اسی لیے جب *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم* نے ان سے کہا کہ *”لا الہ الا اللہ* کہو، کامیاب ہوجاؤگے  ، تو انہوں نے حیرت سے کہا: 
*ترجمہ:* کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے ۔  ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو  یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے ۔  ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی  کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے ۔  کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی  نازل کیا گیا ہے؟  دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں  بلکہ  ( صحیح یہ ہے کہ )  انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں ۔ یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں ۔ *(سورة ص: 5 سے 9)*
📌 انہوں نے اللہ کی ربوبیت کے اقرار کے باوجود اس کی الوہیت کا انکار کیا ، بلکہ وہ اللہ کی عبادت بھی کرتے تھے لیکن اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے تھے، انہیں سفارشی سمجھتے،  ان کا وسیلہ پکڑتے، اور یہ عقیدہ رکھتے کہ ان کے ان اعمال سے ان کے یہ (جھوٹے) معبود انہیں اللہ سے قریب کردیں گے، اسی لیے انہوں نے اپنے معبودوں کو چھوڑنے سے انکار کردیا تھا ٹھیک یہی حال آج کے قبر پرستوں کا ہے جو اللہ کو پکارتے ہیں نماز پڑھتے روزہ رکھتے اور حج کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اپنے اولیاء اور بزرگوں کو خوش رکھنے کے لیے ان کے نام کی نیاز کرتے ہیں ان کی گیارہوں مناتے ہیں اور ان کے نام پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور مشرکین مکہ کی طرح یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کاموں سے یہ بزرگ انہیں اللہ سے قریب کردیں گے ــ


 📌ایسے لوگ سخت گمراہی کے راستے پر ہیں ان کا یہ عقیدہ باطل اور مشرکانہ عقیدہ ہے یہی لوگ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہنے والے ہیں چاہے وہ عربی ہوں یا عجمی (غیر عربی)
 اس لیے اللہ تعالیٰ نے صاف فرمادیا کہ سارے نبیوں اور رسولوں کی بعثت کا مقصد توحید الوہیت کا قیام اور لوگوں کو سارے معبودوں سے ہٹا کر صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا راستہ بتانا ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے:
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ  ( لوگو )  صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو ۔ *(سورة النحل:36)*






*توحیدِ اسماء و صفات:* اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بندہ یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسماء و صفات (ناموں اور خوبیوں) میں یکتا ہے اور ان میں اس کا کوئی ہم مثل نہیں (یعنی کوئی اس کے جیسا نہیں) ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث اللہ تعالیٰ کے جن جن ناموں اور صفتوں کو بیان کیاہے اس پر  بغیر کسی قسم کی تحریف  یا تعطیل و تمثیل و تکییف اور تشبہ کے ایمان رکھا جائے ــ


*وضاحت:*
 *لفظِ تحریف:* یعنی اللہ تعالی کے جو نام اور صفات ہیں اس میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کرنا، لفظ میں یا معنی میں ، یا لفظ اور معنی دونوں میں۔  
اللہ تعالیٰ کے ناموں اور صفتوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہیں کی جائے گی بلکہ جو اللہ نے اپنے بارے میں یا رسول اللہ نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دیا ہے اسکی ذات وصفات کے متعلق ہم اس پر بعینہٖ  ایمان رکھیں ۔ 
*لفظِ تعطیل:* یعنی قرآن وحدیث میں وارد اللہ تعالیٰ کے  اسماء و صفات کا انکار کرنا ۔
تمام اسماء وصفات کا انکار کرے  یا چند اسماء و صفات کا انکار کرے سب تعطیل میں داخل ہے۔
 جیسے اللہ کے لیے صفت کلام ہے  (کلام کے معنی بات کرنا موسی علیہ السلام کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے بات کیا ہے) اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ بات نہیں کرتا تو یہ صفت کلام کی تعطیل ہوئی جو توحید اسماء وصفات کے خلاف ہے۔
*لفظِ تمثیل* اس کا معنی  مثال بیان کرنا یعنی  اللہ کی جو صفات (خوبیاں)  یا جو اس کے اسماء (نام) ہیں وہ کسی کے مثل نہیں (یعنی کسی کے جیسے نہیں) جیسے یہ کہنا کہ اللہ کی فلاں صفت فلاں کی طرح ہے ــ ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ اس کے مثل کوئی ذات نہیں ــ
*لفظِ تکییف:* اس کا مطلب ہے کہ کسی چیز یا کسی صفت کی کیفیت بیان کرنے کو کہا جاتا ہے یہاں مراد اللہ کے نام یا اس کی صفت کی کیفیت بیان کرنا جیسے کوئی کہے کہ اللہ کے ہاتھ کی یہ کیفیت ہے یا اسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کے آنے کا یہ طریقہ ہے حالانکہ کہ اللہ تعالیٰ کی کیفیت بیان کرنا غلط ہے اللہ تعالی تکییف کی ان تمام چیزوں سے بلند و بالا ہے کیونکہ قرآن یا حدیث میں کیفیت نہیں بیان کی گئی ہے 
*لفظِ تشبیہ:* کسی چیز سے تشبیہ دینا یعنی اللہ تعالی کی صفات کو تشبیہ دینا جیسے کہنا کہ اللہ کی فلاں صفت فلاں کی طرح ہے جبکہ یہ سب کہنا درست نہیں ہمارا ایمان بغیر کسی تحریف تعطیل تمثیل تکییف تشبیہ کے ہے اللہ کی ذات با کمال واکمل ہے ہم اس کے اسماء و صفات (ناموں اور خوبیوں) پر ایمان رکھتے ہیں وہ کیسا ہے اس کے ہاتھ کیسے ہیں وہ بات کیسے کرتا ہے یہ علم صرف اللہ کو ہے لیکن ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ان تمام صفات میں واحد اور اکیلا ہے اور اس کے جیسا کوئی نہیں ہے۔
 *جیسا کہ اس کا فرمان ہے:*
*لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ  شَیۡءٌ ۚ وَ هوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ* (الشوریٰ:۱۱)
*ترجمہ:* اس جیسی کوئی چیز نہیں  وہ سننے   اور دیکھنے والا ہے ۔


*اور سورة النحل میں فرمایا*
*(فَلَا تَضۡرِبُوا۟ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ یَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ)*
*ترجمہ:* پس اللہ تعالٰی کے لئے مثالیں مت بناؤ  اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ (آیت نمبر :74)


*اور فرمایا:*
*(وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَاۤءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِینَ یُلۡحِدُونَ فِیۤ أَسۡمَـٰۤىِٕهِۦۚ سَیُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوا۟ یَعۡمَلُونَ)*


*ترجمہ:* اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں تو اُسے اُس کے ناموں سے پکارا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی(اختیار) کرتے ہیں  ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی ۔  (سورة اعراف:180)


*==========================*


*خلاصہ کلام…….* 
*ان ساری باتوں کا خلاصہ کلام……* 👇🏻 


*توحيد كا معنى ومفہوم:*
ایک اللہ کو ماننا اورصرف اور صرف اسی کی عبادت کرنا اور نفع ونقصان کا مالک اسی ماننا اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا توحید ہے۔ 




*توحید کی فضیلت اور اسکا مقام*
توحید اسلام کا پہلا اور سب سے اہم رکن ہے اسی پر بقیہ ارکان اسلام کی صحت اور قبولیت کا دارومدار ہے۔ اسکے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی بلکہ ساری کوششیں رائیگاں اور بیکار ہیں۔ اسکی اسی اہمیت کے پیش نظر تمام انبیاء نے اپنی دعوت کا آغاز اسی توحید سے کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ابتدائے نبوت سے لیکر اپنی آخری سانس تک اسی توحید کی دعوت دیتے رہے۔




*اقسام توحید*
 توحید کی قِسموں کے بارے میں بتایا گیا کہ توحید کی تین قسمیں ہیں (توحید ربوبیت ، توحید الوہیت اور توحید اسماء و صفات)


*پہلی قسم*
*توحید ربوبیت* یہ ہے کہ اللہ رب العالمیں ہی پوری کائنات کا مالک، تمام مخلوقات کا خالق و رازق ہے، اسی کے ہاتھ میں موت و حیات ہےاور وہی نفع و نقصان کا بھی مالک ہے مطلب یہ کہ اِس پورے نظام کو چلانے والا ایک ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے ۔


*دوسری قسم*
*توحید الوہیت یا توحید عبادت:*
یعنی کہ ہر طرح کی عبادت کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے اسکے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ لہذا ہر قسم کی عبادت صرف اور صرف اسی کیلئے ہے اسمیں کسی اور کو شریک کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے جسکا عذاب ہمیشہ کیلئے جہنم میں جلنا ہے اور مشرک کبھی بھی جہنم سے نکالا نہیں جائے گا۔


*تیسری قسم*
*توحیدِ اسماء و صفات*
اور وہ یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے اپنے بارے میں جن ناموں اور صفتوں کا ذکر کیا ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے جن ناموں اور صفتوں کا ذکر کیا ہے اسکا اقرار کرنا اور اسکے معنی کو تسلیم کرنا اسمیں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنا بلکہ جس طرح اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے اسی طرح تسلیم کرنا اور اسمیں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک اور مشابہہ نہ ماننا اور اسکی کیفیات کے پیچھے نہ پڑنا، بلکہ یہ عقیدہ رکھے کہ اسکے جیسا کوئی نہیں اور وہ سب سے اعلیٰ مقام والا ، اور سب سے اچھی صفات والا ہے۔


✍️ *زاہد عزیز اثری* (9616409723)
┄┄┅┅✪❂✵🔵✵❂✪┅┅┄┄
📱📚 *اردو نصیحتیں* 👇
┄┄┅┅✪❂✵🔵✵❂✪┅┅┄┄


https://g.page/Eshopping-store?av

क़यामत की निशानियाँ

پانچویں قسط(٥)
🍀بسم الله الرحمن الرحيم🍀
☘️السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
📌قارئین کرام! “بلغوا عني ولو آية” کے سلسلہ وار دروس بعنوان : 🪐قیامت کی علامتوں🪐 میں آپ سب کا استقبال ہے، قیامت کی چھوٹی علامتوں میں سے ایک علامت ہے 🌴(2) وفاتِ نبوی ﷺ🌴
📚 عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : قیامت سے پہلے چھ نشانیاں شمار کر لو پھر آپﷺ نے سب سے پہلے اپنی موت کا تذکرہ فرمایا پھر باقی پانچ علامتیں ذکر کی (صحيح بخاری :٣١٧٦). إن شاء اللہ باقی علامتیں اگلے دروس میں پیش کی جائیں گی.
📌قارئین کرام! یہ بہت ہی عظیم حدیث ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں قیامت کی علامتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس میں سب سے پہلے اپنی موت کا ذکر فرمایا ہے. علماء کرام لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی وفات قرب قیامت کی ابتدائی علامات میں سے ایک علامت ہے.
📌واقعی آپ ﷺ کی وفات سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت بڑا دھچکا لگا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : “خبرِوفات کے بعد مسلمانوں کے جگر کٹ گئے، قدم لڑکھڑا گئے، چہرے بجھ گئے، آنکھیں خون بہانے لگیں، ارض وسماء سے خوف آنے لگا، سورج تاریک ہو گیا، آنسوبہہ رہے تھے اور نہیں تھمتے تھے، کئی صحابہ حیران وسرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے، کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا، جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا، جو کھڑا تھا اس کو بیٹھ جانے کا یارانہ ہوا، مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی” [انسانیت موت کے دروازے پر ].
📌 واقعی آپ ﷺ کی وفات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پریشان کر گئ ان کے آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور پیروں تلے زمین کھسک گئ، انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :” لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ ؛ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ؛ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَمَا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الْأَيْدِي، وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا” جب وہ دن ہوا جس میں رسول اللہ ﷺ (پہلے پہل) مدینہ میں داخل ہوئے تو اس کی ہر چیز پرنور ہو گئی، پھر جب وہ دن آیا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو اس کی ہر چیز تاریک ہو گئی اور ابھی ہم نے آپ کے دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے کہ ہمارے دل بدل گئے (سنن ترمذی :٣٦١٨).
📌قارئین کرام! واقعی آپ ﷺ کی وفات اہل اسلام کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ تھا کیونکہ آپ کی وفات کے ساتھ ہی آسمان سے وحی کی آمد کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کا بہت غم تھا حدیث میں آتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسولﷺ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی ملاقات کے لئے چلو ہم ان سے ملیں گے جیسے رسولﷺ ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں، دونوں ساتھیوں نے کہا کہ تم کیوں روتی ہو؟ اللہ تبارك وتعالی کے پاس اپنے رسولﷺ کے لئے جو ہے وہ رسولﷺ کے لئے بہتر ہے، ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس لئے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا۔ ام ایمن کے اس کہنے سے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو بھی رونا آگیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے (صحیح مسلم :٦٣١٨).
📌قارئین کرام! واقعی نبی کریم ﷺ کی وفات امت کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ تھا کیونکہ آپ کی وفات کے بعد جو نت نئے فتنوں نے جنم لیا ان کا سلسلہ اب تک بھی نہ تھما ایک طرف فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو دوسری طرف مانعین زکاۃ نے پھر دیکھتے ہی دیکھتے خوارج، معتزلہ، جہمیہ، قدریہ اس طرح فتنوں کا یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا گیا اسی لئے امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: “أول أمر دهم الإسلام موت النبي ﷺ ثم موت عمر رضي الله عنه” “اسلام پر سب پہلی مصیبت و آفت نبی کریمﷺ کی موت ہے پھر عمر رضی اللہ عنہ کی موت ہے ” [التذكرة في أحوال الموتى وأمور الآخرة ص: ٧١٤ ]. غرض ایں کہ آپ ﷺ کی وفات قیامت ان چھوٹی علامتوں میں سے ایک علامت ہے جو واقع ہو چکی ہے اس کو علامات قیامت بعیدہ میں شمار کیا جاتا ہے .
نوٹ : باقی علامتوں کا ذکر اگلے دروس میں آئیگا إن شاء الله تعالى.
🤲اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قیامت کی علامتوں سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اس کے لئے تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین).

استفادہ أز [صحيح أشراط الساعة لأبي النصر مصطفى الشلبي]
                  
❇️ جاری❇️
┄┄┅┅✪❂✵🔵✵❂✪┅┅┄┄
📱📚 اردو نصیحتیں 👇
┄┄┅┅✪❂✵🔵✵❂✪┅┅┄┄

Create your website at WordPress.com
प्रारंभ करें